آل فاطمہ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - جناب فاطمہ زہرا(بنت رسول)، سادات۔ "حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کے زمانے میں ہوئی جنھوں نے پورے نوے برس سندھ سے ایشیائے کوچک اور اندلس تک مساجد جامع میں آل فاطمہ کی توہین کی۔"      ( سیرۃ النبیۖ، ١٩١١ء، ٦٤:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'آل' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ماخوذ اسم 'فاطمہ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١١ء میں "سیرۃ النبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جناب فاطمہ زہرا(بنت رسول)، سادات۔ "حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کے زمانے میں ہوئی جنھوں نے پورے نوے برس سندھ سے ایشیائے کوچک اور اندلس تک مساجد جامع میں آل فاطمہ کی توہین کی۔"      ( سیرۃ النبیۖ، ١٩١١ء، ٦٤:١ )

جنس: مؤنث